کاسرگوڈ18؍فروری (ایس او نیوز) کاسرگوڈ میں اتوار کی رات کو یوتھ کانگریس کے دو کارکنان کے قتل کے بعد سوموار کے دن کانگریس اور یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف)کی طرف سے کاسرگوڈ بند کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں شہر کے تمام تعلیمی ادارے اور کاروباری ٹھکانے پوری طرح بندرکھے گئے ہیں سڑکوں پر بسوں کی آمد و رفت نہیں ہورہی ہے اور مکمل بند منایا جارہا ہے۔ایس ایس ایل سی کے ماڈل امتحانات اور دیگر اسکولوں میں جو امتحانات ہونے والے تھے ان سب کو ملتوی کردیا گیا ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یوتھ کانگریس کے کارکنان کریپیش (24سال) اور سرتھ لال (21سال) کو شرپسندوں کی ایک گینگ نے پیریا کالیوٹ علاقے میں اس وقت قتل کردیاتھاجب یہ دونوں اپنی بائک پر جارہے تھے۔جیپ پر آنے والے حملہ آوروں نے پہلے ان کی بائک کو ٹکر ماری اور جب کریپیش اور سرتھ لال زمین پر گرگئے تو تلواروں سے قاتلانہ حملہ کرکے فرارہوگئے۔اس حملے میں کریپیش نے موقع پر ہی دم توڑدیا جبکہ سرتھ لال کی موت اسپتال منتقل کرنے کے دوران ہوگئی۔پرانی رقابت کو قتل کا سبب بتایاجاتا ہے۔کچھ دنو ں پہلے سی پی آئی ایم اور کانگریس کارکنان کے بیچ تصادم ہواتھا جس کے لئے پولیس نے 11لوگوں کو گرفتار کیا تھااور وہ سب دودن پہلے ہی جیل سے رہا ہوئے تھے۔ ان ملزمین میں سرتھ لال بھی شامل تھا۔
خبر ملی ہے کہ یو ڈی ایف کی طرف سے آج جو احتجاجی مارچ نکالا گیا تھا وہ پرتشدد ہوگیا اور اس پر قابو پانے کے لئے پولیس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔کیونکہ احتجاجیوں نے نیشنل ہائی وے پر موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت کو روکنا شروع کیاتھا اور سی پی ایم اور ایل ڈی ایف کی طرف سے لگائے گئے پوسٹرس پھاڑ ڈالے تھے۔پورے شہر میں کشیدگی بنی ہوئی ہے اور پولیس مکمل چوکسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔